23 جولائی 2011 - 19:30

يمن کے جنوبي شہر تعز ميں علي عبد اللہ صالح کے حامي فوجيوں اور مظاہرين ميں ہونے والي جھڑپ ميں دو افراد مارے گئے جبکہ عدن ميں کار بم کے دھماکے ميں تيس افراد کے ہلاک اور زخمي ہونے کي خبر ہے -

ابنا: اطلاعات کے مطابق شہر تعز کے ايک گھر پر مارٹر گولہ گرا جس کے نتيجے ميں ايک پچيس سالہ خاتون اور دس سالہ بچي کي موت واقع ہو گئي ـحکومت محالف تنظيموں کا کہنا ہے کہ يہ حملہ صالح کے بيٹے کي کمانڈ ميں کام کرنے والے صدارتي گارڈ نے کيا ہے جبکہ حکومت کے کہنا ہے کہ حملہ حکومت مخالف افراد کي طرف سے ہوا ہے -يمن ميں جنوري کے اواخر سے روزانہ لاکھوں لوگ سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کر رہے ہيں اور صالح کي آمرانہ حکومت ختم کئے جانے کي ضرورت پر زور دے رہے ہيں ـ مظاہرين کي سرکوبي ميں سيکڑوں افراد مارے جا چکے ہيں ـيمن ميں مخالفين نے حکومت سے مذاکرات کي متحدہ عرب امارات کي تجويز بھي مسترد کر دي ہے اور ان کا کہنا ہے کہ صالح کي اقتدار سے معزولي تک کوئي گفتگو نہيں ہو سکي ـادھر يمن کے جنوبي شہر عدن ميں بم کے دھماکے ميں نو افراد ہلاک اور اکيس زخمي ہو گئےـ ............../169